نئی دہلی ،28؍اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) ہریانہ کی بیٹی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ان کی چھوریاں چھوروں سے کم نہیں ہیں۔ یو پی ایس سی کی امتحان میں سونیپت کی ٹیٹی نے دوسرا مقام حاصل کر ظاہر کر دیا کہ نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ پڑھائی میں بھی لڑکیاں اول ہیں ۔خاندان کے ساتھ خوشیاں منا رہی انو کماری نے کہا کہ میرا دوم درجہ حاصل کرنے سے والدین کا نام روشن ہونا سب سے بڑی بات ہے ۔ اپنی کامیابی کا کریڈٹ بھی اپنے والدین کو ہی دیا ۔ انو نے کہا کہ وہ آئی اے ایس بننا چاہنگی اور اس کے زریعہ ملک کی خدمت کریں گی۔ انہوں نے لڑکیوں اور خواتین خودمختاری کو اپنا مقصدبتایا۔اپنی کامیابی کے پیچھے انو نے گزشتہ ایک سال سے مسلسل کڑی محنت بتایا۔ وہ روزآنہ 10 سے 12 گھنٹے پڑھائی کرتی تھیں۔انو کماری ایک شادی شدہ خاتون ہیں اور ان کا ایک چار سالہ بیٹا بھی ہے ۔ شادی نیانوکے آئی اے ایس بننے کے خواب میں دخل نہیں دیا ، شوہر اور سسرال والوں کا پورا ساتھ مسلسل ملتا رہا۔انو کماری نے اپنے اسکول میں پڑھائی سونیپت کے شوا اسکول سے مکمل کی ۔ اس کے بعد دہلی یونورسٹی سے بی ایس سی فزکس آنرس کی ڈگری حاصل کی پھر ایم بی اے کی پڑھائی ناگپور سے کرنے کے بعد وہ نوں سال تک ایک پراؤیٹ کمپنی میں کام کرتیں رہیں۔انو کی کامیابی پر ان کے والد بلجیت سنگھ کو بڑا فخر ہے ، انہوں نے کہاکہ ان کی بیٹی نے ان کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا نام بھی روشن کیا ہے ۔ سنگھ نے کہا کہ آج مجھے اتنی خوشی ہے جس کو میں بتا بھی نہیں سکتا ۔ انو بچپن سے ہی پڑھائی میں اول رہی ہے۔